للَّهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْت مِنْ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ وَ خَلِيلِك إبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا الصَّلَوةُ وَالسَّلآم
قربانی اسلام کے اہم ترین عبادات میں سے ایک ہے اور اس کی بہت فضیلت اور اہمیت ہے۔ ذیل میں قربانی کی دعا اور اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
قربانی کی دعا
قربانی کرتے وقت کئی دعائیں پڑھی جاتی ہیں، جن میں سے سب سے بنیادی اور لازمی “بِسْمِ اللَّهِ اَللَّهُ أَكْبَرُ” (اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے) ہے۔ اس کے علاوہ مزید دعائیں بھی ہیں جو سنت سے ثابت ہیں اور پڑھنا افضل ہے۔
قربانی سے پہلے کی دعا (اختیاری): یہ دعا اس وقت پڑھی جاتی ہے جب قربانی کا جانور ذبح کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہو، اس کا رخ قبلہ کی طرف کیا جائے اور ذبح کرنے والا یہ الفاظ کہے۔
عربی: اِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اِنَّ صَلاَتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ للهِ رَبِّ الْعالَمِيْنَ لاَ شَرِيْكَ لَه وَبِذَلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ اَللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ
اردو ترجمہ: “میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ! یہ (قربانی) تیری طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے۔”
ذبح کرتے وقت لازمی کلمات: جب ذبح کرنے والا جانور پر چھری پھیرے تو یہ کلمات ادا کرنا ضروری ہے: بِسْمِ اللَّهِ اَللَّهُ أَكْبَرُ “اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے۔”
قربانی کے بعد کی دعا (اختیاری): قربانی مکمل ہونے کے بعد یہ دعا پڑھی جا سکتی ہے: اللَّهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْت مِنْ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ وَ خَلِيلِك إبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا الصَّلَوةُ وَالسَّلآم “اے اللہ! میری طرف سے اسے قبول فرما جیسے تو نے اپنے پیارے محمد (ﷺ) اور اپنے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) سے قبول فرمایا۔ ان دونوں پر صلوٰۃ و سلام ہو۔” اگر قربانی ایک سے زیادہ افراد کی طرف سے ہو تو “مِنِّی” کی جگہ “مِنَّا” کہا جا سکتا ہے یا شرکاء کے نام لیے جا سکتے ہیں۔
قربانی کی اہمیت
قربانی اسلام کے شعائر میں سے ہے اور اس کی اہمیت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:
-
سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرنا: قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ پر مکمل ایمان، توکل اور فرمانبرداری کا بہترین نمونہ ہے۔
-
اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا: “قربانی” کا لفظ “قرب” سے نکلا ہے جس کا معنی ہے “نزدیکی”۔ قربانی کا مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ یہ جانور کا خون بہانا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرنے کی نیت اور جذبہ ہے۔
-
مالی عبادت: یہ ایک مالی عبادت ہے جو صاحب نصاب مسلمانوں پر واجب ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا ذریعہ ہے۔
-
غریبوں اور محتاجوں کی مدد: قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم ہے: ایک حصہ اپنے لیے، ایک حصہ رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور ایک حصہ غریبوں اور محتاجوں کے لیے۔ اس سے معاشرے میں ہمدردی، بھائی چارہ اور تعاون کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور غریب بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
-
گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ: احادیث میں قربانی کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے اور اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے۔
-
تقویٰ کا اظہار: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔” (سورہ حج: 37) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قربانی کا اصل مقصد جانور کا ذبح کرنا نہیں بلکہ دل کا اخلاص، اللہ کی اطاعت اور تقویٰ کا اظہار ہے۔
-
امت محمدیہ کی پہچان: قربانی امت محمدیہ کی ایک خاص پہچان اور شعار ہے۔ یہ مسلمانوں کے اتحاد اور اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی علامت ہے۔
خلاصہ یہ کہ قربانی ایک عظیم الشان عبادت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے، غریبوں کی امداد، اور تقویٰ و اخلاص کے اظ
قربانی ہر اس مسلمان پر واجب (فرض کے قریب) ہے جو قربانی کے ایام میں چند شرائط پوری کرتا ہو۔ یہ مختلف فقہی مکاتبِ فکر کے درمیان تھوڑا فرق ہو سکتا ہے، لیکن عام طور پر حنفی مسلک کے مطابق جو پاکستان اور ہندوستان میں زیادہ رائج ہے، قربانی ان لوگوں پر واجب ہے:
قربانی کے لیے اہلیت کی شرائط
- مسلمان ہونا: قربانی صرف مسلمان پر واجب ہے۔
- عاقل و بالغ ہونا: وہ شخص عاقل (ذہین اور پاگل نہ ہو) اور بالغ (یعنی اس نے بلوغت کی عمر کو پہنچ لیا ہو)۔ نابالغ بچوں یا ذہنی طور پر کمزور افراد پر قربانی واجب نہیں ہوتی، اگرچہ ان کے مال سے قربانی کی جا سکتی ہے۔
- مقیم ہونا (غیر مسافر): وہ شخص مسافر نہ ہو، بلکہ اپنے شہر یا بستی میں مقیم ہو۔ مسافر پر قربانی واجب نہیں ہوتی۔
- صاحب نصاب ہونا: اس شخص کے پاس قربانی کے ایام (10 ذی الحجہ کی صبح سے لے کر 12 ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے تک) میں ضرورت سے زائد مال اتنا ہو جو نصابِ زکوٰۃ کے برابر ہو۔
- نصابِ زکوٰۃ (جس پر قربانی واجب ہوتی ہے):
- ساڑھے سات تولہ (87.48 گرام) سونا ہو، یا
- ساڑھے باون تولہ (612.36 گرام) چاندی ہو، یا
- اس کے برابر نقد رقم یا تجارتی مال یا ایسی چیزیں جو ضرورت سے زائد ہوں (مثلاً فالتو پلاٹ، اضافی گاڑیاں، کرائے پر دی ہوئی جائیداد وغیرہ)۔
- یہ نصاب سونا یا چاندی کی قیمت کے حساب سے ہوتا ہے اور اس میں بنیادی ضروریات (رہائش، کھانے پینے کا سامان، استعمال کی چیزیں، ضروری لباس وغیرہ) اور قرضے شامل نہیں ہوتے۔ یعنی ان بنیادی ضروریات اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد اگر مذکورہ نصاب کے برابر مال بچتا ہے تو قربانی واجب ہو جاتی ہے۔
- نصابِ زکوٰۃ (جس پر قربانی واجب ہوتی ہے):
کچھ اہم وضاحتیں
- مرد و عورت دونوں پر واجب: یہ شرائط مرد اور عورت دونوں پر یکساں لاگو ہوتی ہیں۔ اگر کوئی خاتون ان شرائط پر پوری اترتی ہے تو اس پر بھی اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔
- ہر بالغ فرد پر علیحدہ قربانی: گھر کا ہر وہ فرد جو ان شرائط پر پورا اترتا ہے، اس پر علیحدہ سے قربانی واجب ہے۔ مثلاً، اگر میاں بیوی دونوں صاحب نصاب ہیں، تو دونوں پر الگ الگ قربانی واجب ہو گی۔ ایک کی قربانی دوسرے کی طرف سے کافی نہیں ہوگی۔
- نیت کا اعتبار: قربانی واجب ہونے کا تعلق انسان کی نیت سے نہیں بلکہ اس کی مالی حیثیت سے ہے۔ اگر کوئی صاحب نصاب ہے تو اس پر قربانی واجب ہو گی چاہے اس کی نیت قربانی کرنے کی نہ ہو۔
- سنتِ مؤکدہ: بعض فقہی مکاتب (مثلاً مالکی، شافعی اور حنبلی) کے نزدیک قربانی فرض یا واجب نہیں بلکہ سنتِ مؤکدہ ہے، یعنی اس کی بہت تاکید کی گئی ہے اور اسے بلا وجہ ترک کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ تاہم، حنفی مکتبہ فکر میں اسے واجب قرار دیا گیا ہے اور اس کو ترک کرنے پر گناہ ہوتا ہے۔
قربانی ہر اس مسلمان پر واجب (فرض کے قریب) ہے جو قربانی کے ایام میں چند شرائط پوری کرتا ہو۔ یہ مختلف فقہی مکاتبِ فکر کے درمیان تھوڑا فرق ہو سکتا ہے، لیکن عام طور پر حنفی مسلک کے مطابق جو پاکستان اور ہندوستان میں زیادہ رائج ہے، قربانی ان لوگوں پر واجب ہے:۔
اگر آپ کو اپنی مالی حیثیت کے بارے میں کوئی شبہ ہو تو کسی مستند عالم دین سے مشورہ کر لینا بہتر ہے۔